Sunday, August 21, 2022

اقرار نامہ / تملیک نامہ

 

اقرار نامہ/ تملیک

منکہ ....................ولد.............قوم...... ساکن .............. .....................  من مقر ام ۔

تفصیل جائیداد تملیکہ ....................................................................................

من مقر اقرار معتبر برضا مندی خود ابقائمی ہوش و ہواس بلا جبرو اگراہ بحالت صحت نفس ثبات عقل اس طور پر کر کے تحریر کر دیتا ہوں کہ من مقر کا نکاحو شادی بمطابق شریعت محمدی ﷺ ہمراہ مسماة .........دختر........ قوم ..... ساکن............        ...... ہونا قرار پائی ہے ۔ من مقر بذریہ دستاویز هذا اقرار کرتا ہے کہ متذکرہ بالا جائیداد تملیکہ کی امروز سے مسماة مذکور یہ قطعی مالکہ ہے ۔ من مقر کا اس سے کوئی واسطہ نہ رہا ہے ۔ مسماة مذکوریہ کو جائیداد تملیکہ کی بابت وہ تمام حقوق داخلی و خارجی بلا فرد گذاشت کسی حق و بلا استثناء کسی حصہ کے منتقل ہو گئے ہیں جو پہلے من مقر کو حاصل تھے ۔ من مقر مسماة مذکوریہ کی خواہش پر جائیداد تملیکہ بذریعہ رجسٹری ، انتقال یا ڈگری کروا دیے کا پابند ہوگا ۔ انکار و انحراف کی صورت میں مسماۃ مذکور یہ اپنے حق میں ڈگری کروا لینے کی مجاز ہوگی جس کو من مقر چیلنج نہ کرے گا ۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کا یہ فعل بددیانتی و دھوکا دہی تصور ہوگا جس پرمقر کے  خلاف مسماۃ مذکور یہ فوجداری کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی ۔ من مقر مسماۃ مذکوریہ کو بوقت ضرورت مناسب جیب خرچ دے گا۔ضروریات زندگی مہیا کرے گا ۔ بیماری کی صورت میں علاج معالجہ خود کروائے گا ۔ جس کا خرچہ خود برداشت کرے گا ۔ اسے خوش و خرم رکھے گا ۔ میکے جانے سے نہ روکے گا ۔ برادری کی خوشی غمی میں شرکت سےمنع نہ کرے گا حسن سلوک سے پیش آئے گا اور لڑائی جھگڑا نہ کرے گا اگر ایسا کیا تو ناچاقی کی صورت میں ماہانہ نان نفقہ مبلغ........ روپے  ادا کرنے کا پابند ہوگا ۔ باخوشی من مقر خود طے پایا ہے ۔ من مقر بلا اجازت مسماة مذکوریہ و حالش کونسل دوسری شادی نہ کرے گا اور نہ ہی بلا دینی ناحق طلاق نہ دوں گا ۔ بلا اجازت دوسری شادی کرنے اور ناحق طلاق دینے کی دونوں صورتوں میں ہر جانہ مبلغ ............ روپے واجب الادا ہوگی ۔ خدانخواستہ ایسی نوبت آ جائے کہ من مقر کو بمطابق دستاویز ہذا ہرجانہ ادا کرنا پڑ جائے تو من مقر بلا عذر و بلا حیل حجت رقم ادا کرنے پابند ہوگا اور دستاویز میں لکھی گئی تے پر اپنا حق نہ بتلاۓ گا ۔ اگر ایسا کیا تو مسماۃ مذکوریہ من مقر کے خلاف تخویف مجرمانہ اور استحصال بالجبر کے تحت کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی ۔ بذریعہ عدالتی کاروائی ہرجانے کی رقم اور نان و نفقہ کی رقم لینے کی صورت میں تمام ہر جہ و خرچه و کورٹ فیس من مقر کے ذمہ ہوگی ۔ جو مسمات مذکوریہ ضابطہ دیوانی 35/A کے تحت لے سکے گی ۔ مسماۃ مذکوریہ کو تملیک کردہ اشیاء بیع کرنے ہبہ کرنے وصیت کرنے , تملیک کرنے , رہن رکھنے قسمی استعمال کا حق حاصل ہو گا ۔ تملیک نامہ  هذا ناقابل انفساخ ہے۔من مقر کواگر کوئی تحریر مسماة مذکور یہ ہیں درکار ہوگی تو مسماۃ مذکوریہ کے لازمی ہوگی ۔ من مقر نے مکمل دستاویز سن اور سمجھ کر درست تسلیم کر لی ہے اقرار نامہ تملیک بحق مسماة مذکوریہ تحریر کر دیا ہے تاکہ سند رہے اور الضرورت کام آوے ۔

 گواه  شد                                                                                                                                                                                                .................                 العبد..............                  العبد                                                                            ........... . ...                                                                                                                                     گواه                        ................................

Sunday, August 14, 2022

دین اسلام کی باتیں

                                بسم الله الرحمن الرحيم !

 پریشانیوں سے بچنے کیلئے کامل مسلمان بننے کی فکر چاہئے

( اللہ تعالی کی طرف سے نعمتوں کامل جانا بڑی سعادت کی بات ہے ۔ مادی نعمتوں میں اگر چہ خدا بیزاراقوام کو برتری نظر آتی ہے ۔ لیکن دنیاوآخرت کی حقیقی نعمت دولت اسلام ہے ۔ اس نعمت کا ملنا محض فضل خداوندی پر موقوف ہے ۔ ہم مسلمان بجا طور اس بات پر شکر خداوندی بجالاتے ہیں کہ اگر اللہ تعالی نے کسی کو مادی نعمتوں اور دنیاوی چمک دمک سے محروم رکھا ہے لیکن اصل اور حقیقی نعمت عطافر مارکھی ہے اور وہ نعمت اسلام ہے ۔ )

اس نعمت کی شکر گزاری ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی حقیقی شکر گزاری یہی ہے کہ اس نعمت کی حفاظت وصیانت کا اہتمام کیا جاۓ ۔ شریعت کے اوامر ونواہی کی پابندی کی جائے کہ شریعت نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے انہیں اپنے اپنے مقررہ اوقات وحدود میں بجالایا جاۓ ۔ایسے امور کو اوامر ' ' کہا جا تا ہے اور جن کاموں سے بچنے کا سکم دیا ہے ان سے بچا جاۓ ایسے امور کو نواہی ' ' کہا جا تا ہے ۔ گویا پورا دین اسلام اوامر کے بجالانے اور نواہی سے بچنے کے اہتمام کا نام ہے ۔ دین اسلام کی اس مختصر وضاحت کے بعد یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ شریعت نے اعمال صالحہ کا ایک وسیع میدان عطافرمادیا ہے جس میں محبت و کوشش سے نعمت اسلام کو درجہ کمال تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ خود اسلام کا اہل اسلام سے بھی یہی تقاضہ ہے کہ دو نعمت اسلام کو درجہ کمال تک پہنچائیں ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ر ہیں ۔اسی طرح دیگر اعمال صالحہ کی بجا آوری اور نواہی سے نیچے پربھی اسلام کے کمال کی بشارت دی گئی ہے ۔ ہر مسلمان کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنی دینی حالت کی نگرانی رکھے کہ آیا وہ کمال کی طرح اپنی دینی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے ۔ طرف رواں دواں ہے یا خدانخواستہ زوال پذیر ہے ۔ ہر مسلمان تھوڑی سی توجہ اور فکر سے بآسانی اس ہم میں سے کون مسلمان ہوگا جو اس بات کا خواہشمند نہ ہو کہ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کامل مسلمان ینوں ۔اس مبارک خواہش کی تکمیل کا میدان دنیا ہے جس میں آدی بتوفیق خداوندی اللہ تعالی کے قرب ورضا کے بڑے بڑے درجات حاصل کر سکتا ہے اور اپنے دین اسلام کی نعمت کو کمال کی چوٹیوں تک پہنچا سکتا ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص یہ سوچے کہ مجھے زندگی میں سکون واطمینان چاہتے تو اس کیلئے مجھے کامل مسلمان بنا ہے میں اپنی زندگی کا جائزہ لوں جن اعمال صالحہ کی بجا آوری بآسانی اور فی الفور ہوسکتی ہے انہیں شروع کر دیا جاۓ ۔ اسی طرح جن نوازی کا وہ مرتکب ہے ان میں سے جو فی الفور تھوڑے جاسکتے ہیں وہ چھوڑ دے۔مشائخ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی اصلاح بتدریج آہستہ آہستہ اس طرح کرے جیسا ایک بچہ خاموشی سے بالغ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے پوری بیداری کیساتھ اپنی اصلاح پر گامزن رہنا وہ استقامت ہے جس کا درجہ کرامت سے بھی بڑھ کر ہے ۔ صبح سے شام تک اپنی زندگی کا جائزہ لیجئے اعمال صالحہ کو بجالائے اور تمام گناہوں سے بھی بچنے کی پوری کوشش کیجئے اور اپنے اسلام کو کمال تک لے جانے کی کوشش وفکر کیجئے کہ نجانے کب زندگی کا چراغ گل ہو جاۓ ۔ اس کوشش وفکر سے آ پکی زندگی پرسکون بن جائیگی جس کے حصول کیلئے ہرخص سرگرداں ہے.

اقرار نامہ / تملیک نامہ

  اقرار نامہ/ تملیک منکہ ....................ولد.............قوم...... ساکن .............. .....................   من مقر ام ۔ تفصیل جائ...