Sunday, August 14, 2022

دین اسلام کی باتیں

                                بسم الله الرحمن الرحيم !

 پریشانیوں سے بچنے کیلئے کامل مسلمان بننے کی فکر چاہئے

( اللہ تعالی کی طرف سے نعمتوں کامل جانا بڑی سعادت کی بات ہے ۔ مادی نعمتوں میں اگر چہ خدا بیزاراقوام کو برتری نظر آتی ہے ۔ لیکن دنیاوآخرت کی حقیقی نعمت دولت اسلام ہے ۔ اس نعمت کا ملنا محض فضل خداوندی پر موقوف ہے ۔ ہم مسلمان بجا طور اس بات پر شکر خداوندی بجالاتے ہیں کہ اگر اللہ تعالی نے کسی کو مادی نعمتوں اور دنیاوی چمک دمک سے محروم رکھا ہے لیکن اصل اور حقیقی نعمت عطافر مارکھی ہے اور وہ نعمت اسلام ہے ۔ )

اس نعمت کی شکر گزاری ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی حقیقی شکر گزاری یہی ہے کہ اس نعمت کی حفاظت وصیانت کا اہتمام کیا جاۓ ۔ شریعت کے اوامر ونواہی کی پابندی کی جائے کہ شریعت نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے انہیں اپنے اپنے مقررہ اوقات وحدود میں بجالایا جاۓ ۔ایسے امور کو اوامر ' ' کہا جا تا ہے اور جن کاموں سے بچنے کا سکم دیا ہے ان سے بچا جاۓ ایسے امور کو نواہی ' ' کہا جا تا ہے ۔ گویا پورا دین اسلام اوامر کے بجالانے اور نواہی سے بچنے کے اہتمام کا نام ہے ۔ دین اسلام کی اس مختصر وضاحت کے بعد یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ شریعت نے اعمال صالحہ کا ایک وسیع میدان عطافرمادیا ہے جس میں محبت و کوشش سے نعمت اسلام کو درجہ کمال تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ خود اسلام کا اہل اسلام سے بھی یہی تقاضہ ہے کہ دو نعمت اسلام کو درجہ کمال تک پہنچائیں ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ر ہیں ۔اسی طرح دیگر اعمال صالحہ کی بجا آوری اور نواہی سے نیچے پربھی اسلام کے کمال کی بشارت دی گئی ہے ۔ ہر مسلمان کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ قدم قدم پر اپنی دینی حالت کی نگرانی رکھے کہ آیا وہ کمال کی طرح اپنی دینی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے ۔ طرف رواں دواں ہے یا خدانخواستہ زوال پذیر ہے ۔ ہر مسلمان تھوڑی سی توجہ اور فکر سے بآسانی اس ہم میں سے کون مسلمان ہوگا جو اس بات کا خواہشمند نہ ہو کہ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ کامل مسلمان ینوں ۔اس مبارک خواہش کی تکمیل کا میدان دنیا ہے جس میں آدی بتوفیق خداوندی اللہ تعالی کے قرب ورضا کے بڑے بڑے درجات حاصل کر سکتا ہے اور اپنے دین اسلام کی نعمت کو کمال کی چوٹیوں تک پہنچا سکتا ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص یہ سوچے کہ مجھے زندگی میں سکون واطمینان چاہتے تو اس کیلئے مجھے کامل مسلمان بنا ہے میں اپنی زندگی کا جائزہ لوں جن اعمال صالحہ کی بجا آوری بآسانی اور فی الفور ہوسکتی ہے انہیں شروع کر دیا جاۓ ۔ اسی طرح جن نوازی کا وہ مرتکب ہے ان میں سے جو فی الفور تھوڑے جاسکتے ہیں وہ چھوڑ دے۔مشائخ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی اصلاح بتدریج آہستہ آہستہ اس طرح کرے جیسا ایک بچہ خاموشی سے بالغ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے پوری بیداری کیساتھ اپنی اصلاح پر گامزن رہنا وہ استقامت ہے جس کا درجہ کرامت سے بھی بڑھ کر ہے ۔ صبح سے شام تک اپنی زندگی کا جائزہ لیجئے اعمال صالحہ کو بجالائے اور تمام گناہوں سے بھی بچنے کی پوری کوشش کیجئے اور اپنے اسلام کو کمال تک لے جانے کی کوشش وفکر کیجئے کہ نجانے کب زندگی کا چراغ گل ہو جاۓ ۔ اس کوشش وفکر سے آ پکی زندگی پرسکون بن جائیگی جس کے حصول کیلئے ہرخص سرگرداں ہے.

No comments:

Post a Comment

اقرار نامہ / تملیک نامہ

  اقرار نامہ/ تملیک منکہ ....................ولد.............قوم...... ساکن .............. .....................   من مقر ام ۔ تفصیل جائ...